Wednesday, 14 April 2021

نہ مانی اس نے ایک بھی دل کی

 نہ مانی اس نے ایک بھی دل کی

دل ہی میں بات رہ گئی دل کی

گیسوئے یار میں یہ بات کہاں

اور ہی شے ہے برہمی دل کی

کھینچتے ہیں وہ تیر پہلو سے

کھوئے دیتے ہیں دل لگی دل کی

یوں وہ نکلے تڑپ کے پہلو سے

شکل آنکھوں میں پھر گئی دل کی

گھٹتی جاتی ہے ان کی مہر و وفا

بڑھتی جاتی ہے بے خودی دل کی

چھوڑ دو ان سے رسم و راہ نسیم

چاہتے ہو جو بہتری دل کی


نسیم بھرتپوری

No comments:

Post a Comment