زندہ رہنا ہے ضروری تو ندامت کیسی
بات ہے بات، بھلا روز وضاحت کیسی
پھر نکلنے کے لیے ڈوبنا پڑتا ہے اسے
وہ تو سورج ہے، بھلا اس سے شکایت کیسی
کوئی تعویذ ہی لکھ دے تو پلا دوں اس کو
یہ محبت ہے تو پھر اس میں رعایت کیسی
مصرعۂ جاں کو اٹھا لے تو سمجھ جائے گا
میں نے اس دل پہ اٹھائی ہے اذیت کیسی
عشق کا بوجھ تو انعام ہے، دیکھو تو ذرا
میرے چہرے پہ اتر آئی ہے ہمت کیسی
رقص کرتی ہوئی آ جائے جو محفل میں نشاط
اس کی حالت کے سبب اس کو ملامت کیسی
آصفہ نشاط
No comments:
Post a Comment