Wednesday, 14 April 2021

رات آئی تو تڑپنے کے بہانے آئے

 رات آئی تو تڑپنے کے بہانے آئے 

اشک آنکھوں میں تو ہونٹوں پہ ترانے آئے 

پھر تصور میں ہی ہم روٹھ کے بدلے پہلو 

پھر خیالوں میں ہی وہ ہم کو منانے آئے 

ان کے کوچے میں جو اک عمر گزاری ہم نے 

یہ کہانی بھی وہ غیروں کو سنانے آئے 

یہ بھی سچ ہے کہ ہر زخم ملا ہے ان سے 

اور وہی چپکے سے مرہم بھی لگانے آئے 

جذبۂ دید تصور کو اٹھائے آشا

اپنی آنکھوں میں لیے خواب پرانے آئے


آشا پربھات

No comments:

Post a Comment