Monday, 3 January 2022

کسی کو عشق میں پاگل یہاں نہیں دیکھا

 کسی کو عشق میں پاگل یہاں نہیں دیکھا

سوار دیکھے ہیں پیدل یہاں نہیں دیکھا

بڑے زمانے سے جنگل میں رہ رہے ہیں ہم

مگر کسی نے بھی جنگل یہاں نہیں دیکھا

ہر ایک عہد کی آنکھوں سے دیکھتا ہوں یہ ہی

کسی نے خواب مکمل یہاں نہیں دیکھا

لگا ہوا ہوں بہت آج کل ملانے میں

جو آج ملتا ہے تو کل یہاں نہیں دیکھا

کہیں نگاہ سے اوجھل وہ ہو نہیں سکتا

اسے کسی نے مسلسل یہاں نہیں دیکھا

یہ کس سے کرتے ہو عقل و شعور کی باتیں

تمہارے جیسا بھی پاگل یہاں نہیں دیکھا


ظہیر رحمتی

No comments:

Post a Comment