کسی کو عشق میں پاگل یہاں نہیں دیکھا
سوار دیکھے ہیں پیدل یہاں نہیں دیکھا
بڑے زمانے سے جنگل میں رہ رہے ہیں ہم
مگر کسی نے بھی جنگل یہاں نہیں دیکھا
ہر ایک عہد کی آنکھوں سے دیکھتا ہوں یہ ہی
کسی نے خواب مکمل یہاں نہیں دیکھا
لگا ہوا ہوں بہت آج کل ملانے میں
جو آج ملتا ہے تو کل یہاں نہیں دیکھا
کہیں نگاہ سے اوجھل وہ ہو نہیں سکتا
اسے کسی نے مسلسل یہاں نہیں دیکھا
یہ کس سے کرتے ہو عقل و شعور کی باتیں
تمہارے جیسا بھی پاگل یہاں نہیں دیکھا
ظہیر رحمتی
No comments:
Post a Comment