خوشی کا بہانہ نہیں آج کل
کہیں آنا جانا نہیں آج کل
سہانے ہیں بس دور کے ڈھول ہی
کہ قربت بڑھانا نہیں آج کل
کہانی میں اب اک نیا موڑ ہے
وہ قصہ پرانا نہیں آج کل
سنبھالو میاں اپنی دیوانگی
زمانہ دیوانہ نہیں آج کل
یہ خوابوں خیالوں کی محفل سہی
جو ملنا ملانا نہیں آج کل
ابھی واہ وا تک ہی محدود ہے
سخن شاعرانہ نہیں آج کل
تکلف کو لطف و کرم جانیے
مہذب زمانہ نہیں آج کل
مہناز بنجمن
No comments:
Post a Comment