Saturday, 5 June 2021

زمین اوڑھ کے ہم کیا خرام کرنے لگے

 زمین اوڑھ کے ہم کیا خرام کرنے لگے

ہمارے ساتھ ستارے کلام کرنے لگے

یہاں چراغ بھی آنے سے پہلے سوچتے ہیں

یہ آپ کون سی بستی میں شام کرنے لگے

میں شاہزادوں میں کیا چار دن گزار آیا

غلام زادے مجھے بھی غلام کرنے لگے

ہمارے جیسا کوئی ایک بد مزاج تو لا

جو عشق بھی نہ کرے اور نام کرنے لگے

پھر ایک دن یونہی تبدیل کر لیا خود کو

کہ دن میں سونے لگے، رات کام کرنے لگے

تمہارے بعد بھی فرصت کہاں ملی ہم کو

تمہارے بعد خدا سے کلام کرنے لگے

ہر ایک بات کا موقع محل بھی ہوتا ہے

یہ تیغ آپ کہاں بے نیام کرنے لگے

مجھے نکلنا پڑا منہ اندھیرے اس دل سے

جب اس چراغ میں سورج قیام کرنے لگے

غزل، غزال، ہوس، عشق، دین اور دنیا

یہ سب شکاری مجھے زیرِ دام کرنے لگے

وہ ایک بار مجھے جھک کے کیا ملا عامی

پھر اس درخت کو سارے سلام کرنے لگے


عمران عامی

No comments:

Post a Comment