زمین اوڑھ کے ہم کیا خرام کرنے لگے
ہمارے ساتھ ستارے کلام کرنے لگے
یہاں چراغ بھی آنے سے پہلے سوچتے ہیں
یہ آپ کون سی بستی میں شام کرنے لگے
میں شاہزادوں میں کیا چار دن گزار آیا
غلام زادے مجھے بھی غلام کرنے لگے
ہمارے جیسا کوئی ایک بد مزاج تو لا
جو عشق بھی نہ کرے اور نام کرنے لگے
پھر ایک دن یونہی تبدیل کر لیا خود کو
کہ دن میں سونے لگے، رات کام کرنے لگے
تمہارے بعد بھی فرصت کہاں ملی ہم کو
تمہارے بعد خدا سے کلام کرنے لگے
ہر ایک بات کا موقع محل بھی ہوتا ہے
یہ تیغ آپ کہاں بے نیام کرنے لگے
مجھے نکلنا پڑا منہ اندھیرے اس دل سے
جب اس چراغ میں سورج قیام کرنے لگے
غزل، غزال، ہوس، عشق، دین اور دنیا
یہ سب شکاری مجھے زیرِ دام کرنے لگے
وہ ایک بار مجھے جھک کے کیا ملا عامی
پھر اس درخت کو سارے سلام کرنے لگے
عمران عامی
No comments:
Post a Comment