مخلوقِ خدا ہنستے ہوئے جاں سے گئی ہے
کیا خواب گری خواب گری خواب گری ہے
اے وقت پلٹ دیکھ قیامت کی گھڑی ہے
منزل میری دہلیز پہ خاموش کھڑی ہے
رک جائیں گے دیوارِ محبت نہ اٹھاؤ
اک خشتِ محبت ہی ہمیں یار بڑی ہے
ماضی کی یہ اُترن ہے اسے طاق میں رکھ دے
تصویر نہیں شیشے میں اب راکھ پڑی ہے
اب تارِ نفس نیند کی وادی سے جڑا ہے
اب نیند تجھے خواب میں لانے کی کڑی ہے
پھولوں کی چھڑی گم ہوئی جادو کی چھڑی سے
اب وقت کے ہاتھوں میں ضعیفی کی چھڑی ہے
اطراف سے آتی ہیں سسکنے کی صدائیں
دیوار مگر صحن میں چپ چاپ کھڑی ہے
جاتے ہوئے جی بھر کے اسے دیکھ تو لوں میں
اے آنکھ ٹھہر تجھ کو تو رونے کی پڑی ہے
تم حاصلِ منظر ہو تو کیا دیکھنا منظر
ویسے بھی یہ دنیا میری آنکھوں سے بڑی ہے
ٹیڑھی سی یہ دیوار سنبھالے کوئی آ کر
دیوار میں اک خواب کی تعبیر گڑی ہے
گڑیا میری ماری گئی جادو کے عمل میں
تعویذ بھرے ماتھے پہ اک میخ گڑی ہے
لاشیں بھی ہیں ماتم بھی ہے زنجیر بھی تاباں
آ، شعر کہیں، شعر کی تحریک بڑی ہے
عبدالقادر تاباں
No comments:
Post a Comment