میرا احساس، مرا سوزِ دروں مردہ باد
میں، مرے خواب مرا طرزِ جنوں مردہ باد
ایک لشکر جو ارادوں کا لیے پھرتا ہوں
کیوں نہ اس کے بھی علم پر میں لکھوں مردہ باد
جس طرح اپنے خیالوں کو جھٹک دیتا ہوں
اس طرح اپنے گمانوں پہ کہوں مردہ باد
ایک جھوٹا سا فسانہ ہے مگر تُو ہی نہیں
زندگی تیری طرح میں بھی تو ہوں مردہ باد
خواب آنکھوں میں اترتے ہیں کبھی ہجر کے دکھ
میرا کمرہ، میرے کمرے کا فسوں مردہ باد
مدثر عباس
No comments:
Post a Comment