بس اتنی سی خواہش ہے
مجھے معلوم ہے
تمہارے فون کا ہر
پاس ورڈ میرے نام سے کھلتا ہے
تمہارے فون میں میرے وائس میسجز کی بھرمار ہے
اس وقت تمہاری گیلری میں
میری تین ہزار سے زائد تصاویر موجود ہیں
مگر میری پھر بھی ایک خواہش ہے
وعدہ کرو کہ پوری کرو گے
مجھے معلوم ہے تمہارا جواب بھی
'کہ؛ 'ایسی کوئی خواہش ہے جو اب تک ادھوری ہو؟
نہیں
ایسی کوئی خواہش نہیں
مگر
پھر بھی سنو
جب میں اور تم
ادھیڑ عمر کو پہنچ جائیں
مجھے تمہارے فون کے وال پیپر پر
اپنی جھُریوں والی تصویر دیکھنی ہے
بس اتنی سی خواہش ہے
میری بس اتنی ہی خواہش ہے
مشعل ندیم بیگ
جوانی میں چاہے جانے کی ہر کوئی خواہش رکھتا ہے مگر مشعل ندیم بیگ کی شاعری میں بڑھاپے میں چاہے جانے کی یہ خواہش بالکل الگ ہے، جو کہ واقعی سب سے ہٹ کر لگی ہے۔
ReplyDelete