Friday, 13 November 2020

خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا

 خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا

وہ چاند ہمیشہ میرے خوابوں میں رہے گا

بھیگی ہوئی آنکھوں سے گلے مل کے بچھڑنا

وہ شخص سدا دل کے نصابوں میں رہے گا

شاید میں ابھی اس کے جگر تک نہیں اترا

شاید وہ ابھی اور نقابوں میں رہے گا

سانسوں کی طرح میں، تیری نس نس میں رہوں گا

کھو کر تُو مجھے خود بھی عذابوں میں رہے گا

نشہ تو تیرے قرب کا ہے جانِ تمنا

کیا لطف تیرے بعد شرابوں میں رہے گا

ہاں پیار ہے، ہاں پیار ہے، سولی پہ چڑھا دو

اقرار ہے، اقرار ہے، جوابوں میں رہے گا

پھر زرد رُتیں دل پہ اترنے لگیں ایاز

دل تب ہی بچے گا جو خرابوں میں رہے گا


ایاز محمود 

No comments:

Post a Comment