خوشبو کی طرح دل کے گلابوں میں رہے گا
وہ چاند ہمیشہ میرے خوابوں میں رہے گا
بھیگی ہوئی آنکھوں سے گلے مل کے بچھڑنا
وہ شخص سدا دل کے نصابوں میں رہے گا
شاید میں ابھی اس کے جگر تک نہیں اترا
شاید وہ ابھی اور نقابوں میں رہے گا
سانسوں کی طرح میں، تیری نس نس میں رہوں گا
کھو کر تُو مجھے خود بھی عذابوں میں رہے گا
نشہ تو تیرے قرب کا ہے جانِ تمنا
کیا لطف تیرے بعد شرابوں میں رہے گا
ہاں پیار ہے، ہاں پیار ہے، سولی پہ چڑھا دو
اقرار ہے، اقرار ہے، جوابوں میں رہے گا
پھر زرد رُتیں دل پہ اترنے لگیں ایاز
دل تب ہی بچے گا جو خرابوں میں رہے گا
ایاز محمود
No comments:
Post a Comment