Friday, 13 November 2020

بس اتنی سی خواہش ہے

 بس اتنی سی خواہش ہے


مجھے معلوم ہے

تمہارے فون کا ہر

پاس ورڈ میرے نام سے کھلتا ہے

تمہارے فون میں میرے وائس میسجز کی بھرمار ہے

اس وقت تمہاری گیلری میں

میری تین ہزار سے زائد تصاویر موجود ہیں

مگر میری پھر بھی ایک خواہش ہے

وعدہ کرو کہ پوری کرو گے

مجھے معلوم ہے تمہارا جواب بھی

'کہ؛ 'ایسی کوئی خواہش ہے جو اب تک ادھوری ہو؟

نہیں

ایسی کوئی خواہش نہیں

مگر

پھر بھی سنو

جب میں اور تم

ادھیڑ عمر کو پہنچ جائیں

مجھے تمہارے فون کے وال پیپر پر

اپنی جھُریوں والی تصویر دیکھنی ہے

بس اتنی سی خواہش ہے

میری بس اتنی ہی خواہش ہے


مشعل ندیم بیگ

1 comment:

  1. جوانی میں چاہے جانے کی ہر کوئی خواہش رکھتا ہے مگر مشعل ندیم بیگ کی شاعری میں بڑھاپے میں چاہے جانے کی یہ خواہش بالکل الگ ہے، جو کہ واقعی سب سے ہٹ کر لگی ہے۔

    ReplyDelete