Friday, 13 November 2020

جب ہوئی اس کی توجہ میں کمی تھوڑی سی

 جب ہوئی اس کی توجہ میں کمی تھوڑی سی

خود بخود آ گئی آنکھوں میں نمی تھوڑی سی

بن گیا پھول بنانے تھے خد و خال اس کے

رہ گئی میرے تخیل میں کمی تھوڑی سی

وہ جو آ جاتا تو کیا کیا نہیں ہوتا پھر بھی

ذکر جب اس کا چھڑا بزم جمی تھوڑی سی

اس کو بھی اپنی انا پر ہے بہت ناز تو پھر

ہم بھی دکھلائیں گے ثابت قدمی تھوڑی سی

رسمِ محفل ہی سہی حال تو پوچھا اس نے

شدتِ گرمئ جذبات تھمی تھوڑی سی

یوں ہی اک حرفِ شکایت تھا لبوں پر اس کے

جس طرح پھول کی پتی پہ نمی تھوڑی سی

اس نے رکھا ہی نہیں پاؤں زمیں کے اوپر

مل گئی جس کو تری ہمقدمی تھوڑی سی

اور دو آتشہ کر دیتی ہے آہنگِ غزل

ہندوی لَے میں نوائے عجمی تھوڑی سی


اشفاق حسین

No comments:

Post a Comment