Saturday, 5 June 2021

تو اکیلا ہے ہزاروں کی کمی پوری کر

 تُو اکیلا ہے ہزاروں کی کمی پُوری کر

اے مِرے چاند! ستاروں کی کمی پوری کر

گھاس کے ساتھ ہرے ہوتے ہوئے زخم نہ گِن

شاخِ آزردہ! بہاروں کی کمی پوری کر

اس سے پہلے کہ جنوں صورتِ سیلاب بہے

اپنی باہوں سے کناروں کی کمی پوری کر

پُختہ قبروں کے مکیں دیکھ رہے ہیں تجھ کو

عشقِ نا پختہ مزاروں کی کمی پوری کر

برف خانے میں کہاں صوت و سماعت والے

چشمِ خاموش اشاروں کی کمی پوری کر


عبدالقادر تاباں

No comments:

Post a Comment