Saturday, 5 June 2021

مٹی نے جب خوف اگانا سیکھ لیا

 مٹی نے جب خوف اُگانا سیکھ لیا

اینٹوں نے دیوار چبانا سیکھ لیا

منہ پر بھوک طمانچے کھا کر بیٹھی ہے

بھوکوں نے کچرے سے کھانا سیکھ لیا

یار اب مجھ کو چھوڑ کے تو جا سکتا ہے

میں نے خوابوں کو دفنانا سیکھ لیا

جتنی گہری چُپ ہے اتنی آوازیں

خاموشی نے شور مچانا سیکھ لیا

مٹی پر اُنگلی سے مٹی لکھ دینا

میں نے اپنا دل بہلانا سیکھ لیا

اندر کا دُکھ باہر لے کر آؤں گی

میں نے بھی تصویر بنانا سیکھ لیا


مقدس ملک

No comments:

Post a Comment