جس کو افسانہ زمانے نے بنا رکھا ہے
ہم نے اس حشر کو سینے میں چھپا رکھا ہے
اک تِرے وعدۂ فردا کی فسُوں کاری نے
دل سے وحشی کو بھی انسان بنا رکھا ہے
دھیان آندھی کا بٹانے کو سرِ راہِ حیات
اک دِیا تیری تمنا کا جلا رکھا ہے
میں ہوں سایہ میرا ہم سایہ نہیں ہے کوئی
میں نے دیوار کو سینے سے لگا رکھا ہے
اُس نے دیوار سے تصویر لگائی تیری
تُو نے دیوار سے دیوانہ لگا رکھا ہے
کھیل ہی کھیل میں لہروں سے نکل آتا ہوں
دل نے بچپن سے بڑھاپے کو سجا رکھا ہے
اب مہینوال نہیں کوئی مگر گاؤں میں
پگلی مُٹیار کے پہلو میں گھڑا رکھا ہے
تجھ سے ملتا بھی نہیں تجھ سے بچھڑتا بھی نہیں
کیا تماشہ دلِ تاباں نے لگا رکھا ہے
عبدالقادر تاباں
No comments:
Post a Comment