دیکھ تو کس قدر بھلا دُکھ ہے
شام ہوتے ہی آ گیا دکھ ہے
دل کی دیوار پر ٹنگی آنکھیں
دل کی دہلیز پر جما دکھ ہے
تھک کے بیٹھی ہوں ایک کونے میں
اور کمرے میں گھومتا دکھ ہے
مجھ سے پوچھو نا خیریت کا سبب
میرے ہر درد کی دوا دکھ ہے
زندگی تو حقیقی معنوں میں
خاک سے خاک پر لکھا دکھ ہے
یا مِرے دشمنوں کا دکھ ہے مجھے
یا مری آستین کا دکھ ہے
ہاتھ کانوں پہ رکھ لیے میں نے
کس قدر چُپ میں چیختا دکھ ہے
میرے ہنسنے پہ پھر مقدس جی
آ کہ مجھ پر برس پڑا دکھ ہے
مقدس ملک
No comments:
Post a Comment