Sunday, 4 July 2021

صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو

صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو

صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو

یا تم کوئی نہیں ہو اور کہیں سے نہیں آئی ہو

وجود کے فنا ہونے کا احساس

معنی کی بے معنویت کی چُبھن

زندگی سے موت تک کا سفر

کیا تم نے ایک لحظہ طے میں کر لیا؟

یا قطرہ قطرہ فنا کی منزلوں سے گُزری ہو

مغرب میں اچانک سُورج غرُوب ہو گیا تھا

اور پھیل گیا تھا اندھیرا

تم اس اندھیرے سے لڑتی گِرتی پڑتی

ٹھوکریں کھاتی اُندلس جا پہنچی

مسجدِ قرطبہ کی پُشت پر بسے محلے میں

جس کی آبادی گُنجان تھی

اور خلیفہ عبدالرحمٰن کے کھجوروں کے پیڑ سرسبز

کیا تم اُسی محلے سے آئی ہو

جہاں پھیلی سیاہی کے درمیان سے

تانڈو مچاتی نکلی تھی، کالی موت

تم بھاگ رہی تھی اور 

شاہراہوں پہ لاشوں کے انبار لگ رہے تھے

خُون تھوکتے انسانوں اور چُوہوں کے

فضا میں پھیل گئی تھی

ناقابل برداشت سڑاند

صدف اقبال یہ تم کدھر نکل آئی

زلزلوں کی دھرتی پر

جب بہار کے گاؤں میں

مٹی کے گھروں کی کچی دیواریں گر رہی تھیں

بارش میں مٹی رل مل کر گنگا میں سماتی جاتی تھی

اور تم خاموش ساکت

اپنے کنبے کی لاشوں کو دیکھ رہی تھی

دبی ہوئی مٹی کے تودوں کے نیچے

صدف اقبال تم دیکھ رہی تھی گھنے سیاہ بادل

اور سُورج کی گُمشدگی

صدف اقبال کیوں پُوچھتے ہیں لوگ

کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو؟

بتا کیوں نہیں دیتی کہ تم وبا کی پیدائش ہو

اور مر جاتی ہو، ہجوم کے درمیان

لیکن شاید یہ سوال ہی تمہاری شناخت ہے

تو بتا دو صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو

صحرا کے ساربانوں کے قافلے کے ساتھ

تم اس شہرِ بے پناہ کی پناہ میں کیسے چلی آئی

یہ کون سی بستی ہے؟

جہاں جھونپڑیاں ایک دوسرے پر سوار

ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں

اور اچانک منادی کرا دی گئی

کہ تمہاری زندگی بہت قیمتی ہے

تمہیں زندہ رکھنا ہے

زندگی کے لیے قید کر دیا تمہیں

یہ کون ہے بادشاہ جو نگر کے ہر پوسٹر پر لٹک رہا ہے

قید میں یہ کون لوگ ہیں جو تل تل کر مر رہےہیں

کون ہے وہ جو کہہ رہا

یہی موت تو دراصل زندگی ہے

صدف اقبال تمہارے آس پاس

ایک اژدہام ہے

اس جم غفیر کے پیٹ چِپک چکے ہیں پیٹھ سے

کیا تمہیں یاد ہے؟

تم نے آخری بار روٹی کب دیکھی تھی؟

صدف اقبال 

یہ اچانک رواں کیوں ہو گئے تمہارے پیر شاہراہ پر

اژدہام کے ساتھ سب چل رہے ہیں 

جیسے ستر سال پہلے تمہاری آنکھوں کے سامنے

چل رہے تھے لوگ

بیل گاڑیوں پر، پالکیوں پر، پیدل، اونٹوں پر، گدھوں پر

مر رہے تھے زخموں سے

لاشیں گِرتی جاتی تھیں

لیکن لوگ چل رہے تھے

صدف اقبال کیا اب بھی سفر باقی ہے؟

یہ کون لوگ ہیں جو کٹ گئے ریل کے نیچے

لوگ جن کی لاشوں پر صرف مکھیاں بِھنبھناتی ہیں

اور سُوکھی روٹی پہ منجمد خون سیاہ ہوتا جاتا ہے

صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو؟

کیا تم مہابھارت کال سے یہ منظر ساتھ لے آئی ہو

لیکن اس میں کرشن کہاں ہے؟

صدف اقبال

بتاؤ آخر پوسٹر کا بادشاہ کیوں مسکراتا ہے

قہقہہ لگاتا ہے

کیا پوسٹر کابادشاہ

تمہیں دیکھ رہا ہے

مظفرپور کے اسٹیشن پر

فرش پر تمہاری لاش پڑی ہے چادر سے ڈھکی ہوئی

چادر کے کونے کو پکڑ کر کون اٹھا رہا ہے تمہیں

اس معصوم کی آنکھوں میں شرارت ہے

کھیل رہا ہے تمہارے ساتھ

خفا ہے کہ ماں نہیں اٹھتی

خفگی سے دور جا بیٹھا ہے

لیکن کون منائے گا اسے

خلیفہ عبدالرحمٰن؟

پوسٹر والا سفاکی سے قہقہہ لگاتا ہوا بادشاہ

صدف اقبال تم کوئی نہیں ہو

اور کہیں سے نہیں آئی ہو

وجود دن کی بھیانک تاریکی میں تحلیل ہو چکا ہے

اور شاید سورج کبھی طلوع نہیں ہو گا


صدف اقبال

No comments:

Post a Comment