ایک کلِک کی دیوار
کیا فرق پڑتا ہے اگر میں
تمہیں شدت سے یاد کروں
اب ہم رابطے میں نہیں رہ سکتے
حالانکہ ہم ایک دوسرے سے
ایک کلِک کے فاصلے پر موجود ہیں
کبھی کھبار چاہنے سے بھلا کیا ہو گا
اگر ہم ایک لمحے کے لیے بھی
باغی نہیں ہوسکتے
مجھے اس بات کا احساس ہے
کہ اب یہ درست نہیں ہو گا
مگر ہمارے سوا کسکو فرق پڑتا ہے
ہم نہ جانے کب تک
بُرے خوابوں سے ڈر کر
اچانک جاگ کر کروٹیں بدلیں گے
کب تلک ایک دوسرے کے لیے
رات بھر فکرمند رہیں گے
ہمیں تو اب اس سماج میں
اتنی آزادی بھی میسر نہیں رہی
کہ ایک کلِک کی دیوار کو
گرانے کے لیے میسج ہی کر سکیں
صفی سرحدی
No comments:
Post a Comment