ایک مشورہ
مِرے گِرد
اب لال پیلی دواؤں کی
ان شیشیوں سے
نہ دیوار چُننے کی
کوشش کرو
تم حصارِ دعا میں
مجھے قید کرنے کی ضد چھوڑ دو
اب مِرے زخم خوردہ بدن کی
نہ تم سوئیوں سے
طبیبوں کی
پیوند کاری کرو
اپنی پہچان کی شکل
بگڑی ہوئی لگ رہی ہو
تو میری
اک اچھی سی تصویر
کمرے میں تم ٹانگ لو
مجھ کو گھر کے
کسی اندھے کونے میں اب ڈال دو
صبا اکرام
No comments:
Post a Comment