Sunday, 4 July 2021

میں نے تو اک بات کہی تھی بات کو پھیلایا ہے کتنا

میں نے تو اک بات کہی تھی بات کو پھیلایا ہے کتنا

اب میں سمجھا ہوں دنیا نے مجھ کو پہچانا ہے کتنا

جانے کس نے تھپڑ مارا کالے بادل کے چہرے پر

میں نے دیکھا ہے بادل کو غصے میں برسا ہے کتنا

لاٹھی پانی میں ڈالوں تو واپس آتی ہے پانی پر

دریا زور آور ہے کتنا میرا سرمایہ ہے کتنا

کل میں نے کچھ چہرے دیکھے کیفے کے اک لان میں بیٹھے

کیا بتلاؤں مجھ کو اس کا چہرہ یاد آیا ہے کتنا

اس سے مل کر خوش ہوتا ہوں پھر اس سوچ میں کھو جاتا ہوں

باہر سے اجلا ہے کتنا اندر سے کالا ہے کتنا

رامپور جی یہ مت پوچھو دل میرا رونے لگتا ہے

کیا بولوں سوچا ہے کتنا اور اس کو پایا ہے کتنا


خلیل رامپوری

No comments:

Post a Comment