Monday, 21 June 2021

ہم کو خزاں نے تم کو سنوارا بہار نے

 اک اخگر جمال فروزاں بہ شکل دل

پھینکا ادھر بھی حسن تجلی نثار نے

افسردگی بھی حسن ہے تابندگی بھی حسن

ہم کو خزاں نے تم کو سنوارا بہار نے

اس دل کو شوقِ دید میں تڑپا کے کر دیا

کیا استوار وعدۂ نا استوار نے

جلوے کی بھیک دے کے وہ ہٹنے لگے تھے خود

دامن پکڑ لیا نگہِ اعتبار نے

گیسو غبارِ راہِ تمنا سے اٹ نہ جائیں

صحرا میں آپ نکلے ہیں ہم کو پکارنے


اجتبیٰ رضوی

No comments:

Post a Comment