مت اسے ہاتھ لگانا وہ سجن آگ ہے آگ
تم اسے خاک سمجھتے ہو بدن آگ ہے آگ
اس کی حسرت میں بھلے لوگ مَرے جاتے ہیں
کون سمجھائے کہ وہ غُنچہ دہن آگ ہے آگ
اپنی تہذیب کو پانی کی ضرورت ہو گی
چُوم آیا ہوں لبِ گنگ و جمن آگ ہے آگ
وہ جو مومن ہے تو مٹی ہی کفن ہے اس کا
اور کافر ہے تو پھر اس کا کفن آگ ہے آگ
سارے سیارے ستارے بھی ہیں آتش پارے
یہ زمیں آگ کی ہے نیل گگن آگ ہے آگ
پھول کھِلتے ہیں کہ بارود، خبر بھی دینا
کتنا شاداب ہے اور کتنا چمن آگ ہے آگ
سرد الفاظ کو بخشی ہے حرارت کس نے
رشکِ خورشید ہے وہ اس کا سخن آگ ہے آگ
خورشید اکبر
No comments:
Post a Comment