Wednesday, 16 June 2021

بدن کی راکھ سے روشن شرارہ کر کے دیکھوں گا

 بدن کی راکھ سے روشن شرارہ کر کے دیکھوں گا

میں اپنی جان کو اب کے ستارہ کر کے دیکھوں گا

وہ تنہا جستجو بے چین سی رہتی ہے آنکھوں میں

قیامت آ بھی جائے تو گوارہ کر کے دیکھوں گا

قضا اکثر مِرے کوچے سے بے پردہ گزرتی ہے

اسے بھی کھیلتے ہنستے اشارہ کر کے دیکھوں گا

یہ سوچا ہے لبِ لرزاں پہ رکھ کر تشنگی ساری

تجھے بھی اے سمندر استعارہ کر کے دیکھوں گا

نہ چھت ہو گی نہ در ہو گا نہ صحنِ یار کا گوشہ

میں شہر عافیت میں یوں گزارہ کر کے دیکھوں گا

بدن کشتی، بھنور خواہش، ارادہ بادباں جیسا

جنوں دریا چلو خود کو کنارہ کر کے دیکھوں گا

سفر میں خیر و شر کے بعد وہ منزل بھی آئے گی

جہاں خورشید اپنا گوشوارہ کر کے دیکھوں گا


خورشید اکبر

No comments:

Post a Comment