Wednesday, 7 July 2021

شہر کا شہر ہے بیزار کہاں جاؤں میں

 شہر کا شہر ہے بے زار کہاں جاؤں میں

اور تنہائی ہے دُشوار کہاں جاؤں میں

لوگ مرتے ہیں سِسکتے ہیں مزے لیتے ہیں

دیکھ کر سرخئ اخبار کہاں جاؤں میں

تُو جو کہتا ہے کہ یہ خاکِ وطن تیری ہے

میں کہاں پر ہوں مِرے یار کہاں جاؤں میں

ایک انکار پہ موقوف ہیں سارے قصے

میں کہاں صاحب کردار کہاں جاؤں میں

مجھ کو رشتوں کی تجارت کبھی منظور نہ تھی

سوچتا ہوں سرِ بازار کہاں جاؤں میں

پارسا خواب سبھی اس کے تصرّف میں رہے

رات بھی ہو گئی بدکار کہاں جاؤں میں

کوئی منزل تِری نیت سے کبھی روشن ہو

اے مِرے قافلہ سالار! کہاں جاؤں میں

ایک جھنڈے ہیں سبھی رنگ جدا ہیں ان کے

کون ہے کس کا علمدار؟ کہاں جاؤں میں

جتنے منکر تھے تِرے سارے فرشتے نکلے

ایک میں تیرا گنہ گار کہاں جاؤں میں

میں کنارے پہ کھڑا سوچ رہا ہوں خورشید

ناؤ کے ساتھ ہے منجدھار کہاں جاؤں میں


خورشید اکبر

No comments:

Post a Comment