Wednesday, 7 July 2021

واسطہ ہم سے تو پہلے ہی وہ کم رکھتے ہیں

 واسطہ ہم سے تو پہلے ہی وہ کم رکھتے ہیں

وہ ہمیں ہیں جو محبت کا بھرم رکھتے ہیں

کھول دیں بھید ہمارے نہ کسی دن آنکھیں

اس لیے جان کے ہم آنکھوں کو نم رکھتے ہیں

میں ادا بند نہیں، پر یہ سنا ہے میں نے

وہ ادا خاص ہے جو میرے صنم رکھتے ہیں

بانٹتے رہتے ہیں مُسکانیں ہم اپنی سب میں

اور چُھپا کر دلِ ہمدرد میں غم رکھتے ہیں

دیکھ لیتے ہیں بُلا کر اُنہیں چاہیں جس دم

کم سے کم اتنا تو ہم آنکھوں میں دم رکھتے ہیں

ہو نہ جائے کہیں ناراض مِرا وعدہ شکن

فوزیہ اس کے لیے سر کو بھی خم رکھتے ہیں


فوزیہ مغل

No comments:

Post a Comment