واسطہ ہم سے تو پہلے ہی وہ کم رکھتے ہیں
وہ ہمیں ہیں جو محبت کا بھرم رکھتے ہیں
کھول دیں بھید ہمارے نہ کسی دن آنکھیں
اس لیے جان کے ہم آنکھوں کو نم رکھتے ہیں
میں ادا بند نہیں، پر یہ سنا ہے میں نے
وہ ادا خاص ہے جو میرے صنم رکھتے ہیں
بانٹتے رہتے ہیں مُسکانیں ہم اپنی سب میں
اور چُھپا کر دلِ ہمدرد میں غم رکھتے ہیں
دیکھ لیتے ہیں بُلا کر اُنہیں چاہیں جس دم
کم سے کم اتنا تو ہم آنکھوں میں دم رکھتے ہیں
ہو نہ جائے کہیں ناراض مِرا وعدہ شکن
فوزیہ اس کے لیے سر کو بھی خم رکھتے ہیں
فوزیہ مغل
No comments:
Post a Comment