ہر گناہ کا عذاب جھیلا
ہم نے کیا کیا جناب جھیلا
اس کی ہمت پہ جان صدقے
جس نے تیرا شباب جھیلا
لوگ سمجھے وفا کی قیمت
جب اداسی کا باب جھیلا
ہم تو عاشق ہیں، شیخ صاحب
آپ نے کیوں عتاب جھیلا
کسی کو حاصل جفا کی لذت
کسی نے لطفِ نایاب جھیلا
یہ حقیقت ہے زندگی کی
ہر کسی نے سراب جھیلا
میرے بارے میں آپ کہیے
ہم نے عزت مآب جھیلا
کامران حیدر
No comments:
Post a Comment