Wednesday, 7 July 2021

ہر گناہ کا عذاب جھیلا

 ہر گناہ کا عذاب جھیلا

ہم نے کیا کیا جناب جھیلا

اس کی ہمت پہ جان صدقے

جس نے تیرا شباب جھیلا

لوگ سمجھے وفا کی قیمت

جب اداسی کا باب جھیلا

ہم تو عاشق ہیں، شیخ صاحب

آپ نے کیوں عتاب جھیلا

کسی کو حاصل جفا کی لذت

کسی نے لطفِ نایاب جھیلا

یہ حقیقت ہے زندگی کی

ہر کسی نے سراب جھیلا

میرے بارے میں آپ کہیے

ہم نے عزت مآب جھیلا


کامران حیدر

No comments:

Post a Comment