Tuesday, 11 July 2023

درمیاں کب اٹک گئی ہو گی

 درمیاں کب اٹک گئی ہو گی

آہ سُوئے فلک گئی ہو گی

یہ فضا کیوں بہک گئی ہو گی

اُس کی چادر سرک گئی ہو گی

جب نظر اُس تلک گئی ہو گی

دل پہ بجلی کڑک گئی ہو گی

ہے ترا انتظار مدت سے

دل میں امید تھک گئی ہو گی

"یہ دھواں سا کہاں سےاٹھتا ہے"

آگ دل میں بھڑک گئی ہو گی

پھول پر اُس نے ہونٹ رکھے ہیں

جان، شبنم، چھڑک گئی ہو گی

اسپِ دل بے لگام ہو گیا تھا

زین کب کی، ڈھلک گئی ہو گی

حسرتِ دل، مثالِ طفلِ صغیر

اُس کی جانب ہمک گئی ہو گی

میری ہجرت کے بعد، بستی سے

وہ چمک، وہ دمک گئی ہو گی

آج آئی نہیں چمن میں صبا

دشت میں ہی بھٹک گئی ہو گی

خود سے سرگوشیوں میں تھا مصروف

کیسے اُس تک بھنک گئی ہوگی؟

کیوں خجل بلبل و گلاب ہوئے؟

یہ صبا یک بیک گئی ہو گی

اُس کےکوچے میں میری روح وسیم

دیکھنے، اک جھلک گئی ہو گی


وسیم عباس حیدری

No comments:

Post a Comment