جب تک غبارِ راہ مرا ہمسفر رہا
رستہ تو تھا طویل مگر مختصر رہا
ہر چند ہو گیا ہے ثریا سے بھی بلند
لیکن شجر جفا کا سدا بے ثمر رہا
اہلِ جنوں نے توڑ دئیے وہ حصار بھی
ہوش و خِرد کا تیشہ جہاں بے ضرر رہا
یہ میکدہ ہے جائے عبادت ہے رند کی
دنیا کا ہر فریب یہاں بے اثر رہا
فصلِ خزاں میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں
صدیوں تلک بہار کا جو راہبر رہا
احمد شاہد
No comments:
Post a Comment