Wednesday, 19 May 2021

دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے

 دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے

اس پوری کائنات میں کتنا سراب ہے

روزانہ اک فقیر لگاتا ہے یہ صدا

دنیا سراب ہے ارے دنیا سراب ہے

موسیٰ نے ایک خواب حقیقت بنا دیا

ویسے تو گہرے پانی میں رستہ سراب ہے

پوری طرح سے ہاتھ میں آیا نہیں کبھی

وہ حسن بے مثال بھی آدھا سراب ہے

کھلتا نہیں ہے ریت ہے پانی کہ اور کچھ

میری نظر کے سامنے پہلا سراب ہے

سورج کی تیز دھوپ میں دھوکہ ہر ایک شے

کالی گھٹا سی رات میں سایہ سراب ہے


احمد خیال

No comments:

Post a Comment