مگر وہ دیا ہی نہیں مان کر کے
بہت ہم نے دیکھا ہے جی جان کر کے
کبھی دل کو بھی سیر کر جاؤ صاحب
یہ غنچہ بھی ہے گا گلستان کر کے
نظر اس سراپے میں سو جا سے پلٹی
زلیخائی یوسفستان کر کے
وہ جس روز نکلیں جگ اُجیارنے کو
یہ دل بھی دِکھا لائیو دھیان کر کے
جناب آپ حور و ملک ہوں گے لیکن
سمجھئے گا عاشق کو انسان کر کے
تِری لالہ زاری سلامت کہ ہم بھی
کھڑے ہیں کوئی غنچہ ارمان کر کے
مِری کشتِ جاں پر سے گزرا ہے جاوید
سحابِ جنوں زورِ باران کر کے
احمد جاوید
No comments:
Post a Comment