Wednesday, 19 May 2021

مگر وہ دیا ہی نہیں مان کر کے

 مگر وہ دیا ہی نہیں مان کر کے

بہت ہم نے دیکھا ہے جی جان کر کے

کبھی دل کو بھی سیر کر جاؤ صاحب

یہ غنچہ بھی ہے گا گلستان کر کے

نظر اس سراپے میں سو جا سے پلٹی

زلیخائی یوسفستان کر کے

وہ جس روز نکلیں جگ اُجیارنے کو

یہ دل بھی دِکھا لائیو دھیان کر کے

جناب آپ حور و ملک ہوں گے لیکن

سمجھئے گا عاشق کو انسان کر کے

تِری لالہ زاری سلامت کہ ہم بھی

کھڑے ہیں کوئی غنچہ ارمان کر کے

مِری کشتِ جاں پر سے گزرا ہے جاوید

سحابِ جنوں زورِ باران کر کے


احمد جاوید

No comments:

Post a Comment