من کا رشتہ سچا ہے اور صدیوں ساتھ نبھائے گا
تن کا رشتہ جھُوٹا ہے، جو مٹی میں مل جائے گا
دل میں اب تک آس یہی ہے مجھ سے رُوٹھنے والا پھر
میری زُلفیں ہاتھ سے اپنے آ کر خود سُلجھائے گا
اہلِ نظر کی مجھ پر نظر ہے لفظ میری پہچان بنے
بات جو میرے منہ سے نکلی وقت اُسے دہرائے گا
سات سمندر پار چلا جا، بات مِری پر یاد رہے
گُلشن کو تو بھُول بھی جائے گُل کو بھُول نہ پائے گا
ثمینہ گل
No comments:
Post a Comment