Monday, 5 April 2021

مجھ سے نفرت کرتے کرتے تو بھی مجھ سا ہو گیا

 مجھ سے نفرت کرتے کرتے تُو بھی مجھ سا ہو گیا

شکریہ اے شخص! میرا بوجھ ہلکا ہو گیا

چند ہی رعنائیاں ہیں اس جہانِ خاک میں

دل ہوا، دریا ہوا یا اس کا چہرہ ہو گیا

کیا عجب تدبیر سے روکا ہے اس نے میرا وار

میں نے جب تلوار اٹھائی، وہ نہتّا ہو گیا

عشق وہ سرکس ہے اے نوواردانِ شہرِ دل

جو تماشا کرنے آیا خود تماشا ہو گیا

وہ گیا تو بڑھ گئی اس کی طلب راز احتشام

سوکھ جانے پر یہ دریا اور گہرا ہو گیا


راز احتشام 

No comments:

Post a Comment