میں رقص کروں زنجیر بنو
مِرے خوابوں کی تعبیر بنو
میں رانجھا اپنا نام رکھوں
اور تم بھی میری ہیر بنو
اسکیچ بناؤں میں تیرا
تم لفظوں کی تصویر بنو
زلفوں کی گرہیں، خم کھولوں
تم صبح کی اک تنویر بنو
میں رب سے جو تم کو مانگوں
تم دستِ دعا تاثیر بنو
میں جنگ میں مارا جاؤں اور
تم ہی اس کی تقصیر بنو
میں وارث بنوں جس دولت کا
وہ دھن، دولت، جاگیر بنو
میں فتحِ مبین کا مژدہ بنوں
تم نوکِ سِناں، شمشیر بنو
میں ہادی، رہبر ہوں راشف
تم بھٹکا ہوا رہگیر بنو
راشف عزمی
No comments:
Post a Comment