مرقعِ رنج و الم زندگی ہے
مِری زندگی اب یہی زندگی ہے
خوشی میں بھی دل ساتھ دیتا نہیں اب
ہنسی میں ملی آنسوؤں کی نمی ہے
نہ پوچھا کبھی تم نے احوال میرا
مجھے زعم تھا کہ بڑی دوستی ہے
گئی رات جیسے اندھیری گلی تھی
سویرے کا مطلب نئی روشنی ہے
ثبوت وفا مانگتے ہیں ہم ہی سے
محبت پہ کیسی گھڑی آپڑی ہے
یہ میری وفائیں، میراپاک دامن
یہ میرا اثاثہ بہت قیمتی ہے
مِری بندگی کا عجب ہے فسانہ
کبھی سجدہ ریزی، کبھی گمرہی ہے
خدا کی عطا ہے یہ فرزانہ تجھ پر
تِری ہر خطا معاف ہوتی رہی ہے
فرزانہ اعجاز
No comments:
Post a Comment