آسان راستے کو بھی مشکل سمجھ لیا
تم نے یہ کس پڑاؤ کو منزل سمجھ لیا
میں چاہتی تھی اس کو بچا لوں کسی طرح
افسوس مجھ کو لوگوں نے قاتل سمجھ لیا
وہ شام کے غروب کی کالی لکیر تھی
بِینائی کے فریب کو ساحل سمجھ لیا
میری رگوں میں مشرقی تہذیب تھی رواں
اس نے نہ جانے کیوں مجھے بزدل سمجھ لیا
خوشبو کی طرح پھیل گیا کائنات میں
اس نے جسے بھی ذکر کے قابل سمجھ لیا
حنا تیموری
No comments:
Post a Comment