Monday, 5 April 2021

آسان راستے کو بھی مشکل سمجھ لیا

 آسان راستے کو بھی مشکل سمجھ لیا

تم نے یہ کس پڑاؤ کو منزل سمجھ لیا

میں چاہتی تھی اس کو بچا لوں کسی طرح

افسوس مجھ کو لوگوں نے قاتل سمجھ لیا

وہ شام کے غروب کی کالی لکیر تھی

بِینائی کے فریب کو ساحل سمجھ لیا

میری رگوں میں مشرقی تہذیب تھی رواں

اس نے نہ جانے کیوں مجھے بزدل سمجھ لیا

خوشبو کی طرح پھیل گیا کائنات میں

اس نے جسے بھی ذکر کے قابل سمجھ لیا


حنا تیموری

No comments:

Post a Comment