سنو ہمدم بہت مشکل گھڑی ہے
محبت ٹوٹ کر بکھری پڑی ہے
سناؤ مجھ کو غم کے کچھ فسانے
خوشی دل میں مِرے اب تک گڑی ہے
بہت کچھ تم سے کہنا رہ گیا تھا
جدائی کی گھڑی سر پر کھڑی ہے
دمِ رخصت مجھے رونا نہیں تھا
تِرا شانہ ہے مشکل آپڑی ہے
سنو ہلکان میری جاں! نہ ہونا
اسے روکو جو آنکھوں میں جھڑی ہے
مِرا ہمدرد کیسا آئینہ ہے
جسے ہر وقت لڑنے کی پڑی ہے
ناہید عزمی
No comments:
Post a Comment