Thursday, 22 July 2021

میں ایک ہی سانس میں بہت سی زندگیاں جی لیتا ہوں

 سانس بھر ہوا


میں ایک ہی سانس میں

بہت سی زندگیاں جی لیتا ہوں

کِھلتی کلی سے گزرتا جھونکا

فتح مند کھلاڑی کا اڑتا پسینہ

وصل کی لذت سے مغلوب

عورت کی کراہ

سرِ شام دِیا بجھاتے

نوجوان شاعر کی پھونک

بارش میں گِرتی

کچی چھت کا بوجھل غبار

مرنے والے کے سینے سے نکلی

آخری آہ

میں ایک ہی سانس میں

بہت سی موتیں مر جاتا ہوں


حسین عابد

No comments:

Post a Comment