خواب آنکھوں میں تم سجاؤ تو
کاغذی کشتیاں بناؤ تو
دن کا سورج ہے کس گمان میں اب
لو دِیے کی ذرا بڑھاؤ تو
ایک تتلی بھٹک رہی ہے یہاں
رخ سے آنچل ذرا ہٹاؤ تو
ارے صاحب سنو ذرا ٹھہرو
میرا دل ساتھ لے کے جاؤ تو
رنگ ساڑھی کا اور نکھرے گا
پھول گیندے کا اک لگاؤ تو
آ ج موسم بھی خوب ٹھہرا ہے
ایک چائے کا 🍵 کپ بناؤ تو
سارا منظر سمجھ میں آئے گا
آنکھ کا زاویہ بناؤ تو👁👁
صفیہ چوہدری
صفیہ چودھری
No comments:
Post a Comment