Thursday, 22 July 2021

خواب آنکھوں میں تم سجاؤ تو

 خواب آنکھوں میں تم سجاؤ تو

کاغذی کشتیاں بناؤ تو

دن کا سورج ہے کس گمان میں اب

لو دِیے کی ذرا بڑھاؤ تو

ایک تتلی بھٹک رہی ہے یہاں

رخ سے آنچل ذرا ہٹاؤ تو

ارے صاحب سنو ذرا ٹھہرو

میرا دل ساتھ لے کے جاؤ تو

رنگ ساڑھی کا اور نکھرے گا

پھول گیندے کا اک لگاؤ تو

آ ج موسم بھی خوب ٹھہرا ہے

ایک چائے کا 🍵 کپ بناؤ تو

سارا منظر سمجھ میں آئے گا

آنکھ کا زاویہ بناؤ تو👁👁


صفیہ چوہدری

صفیہ چودھری

No comments:

Post a Comment