Thursday, 22 July 2021

اک چاند میرے ساتھ بہت در بہ در ہوا

 اک چاند میرے ساتھ بہت در بہ در ہُوا

کل شب جدھر میں گیا، وہ ادھر گیا

پہلے ہوا میں وعدہ خلافی کا مرتکب

شرمندہ اس کے سامنے بارِ دِگر ہوا

یہ بات صرف تیری مِری عمر کی نہیں

قصہ بہت طویل تھا، جو مختصر ہوا

اک موجِ یادِ یار تھی، لفظوں میں آ گئی

اک لمحۂ ملال تھا، جو کارگر ہوا

جو بھی غزل کہی ہے اسے دیکھ کر ہوئی

جو شعر بھی کہا ہے، اسے دیکھ کر ہوا

بے نام تھا جو شہر میں، بے نام ہی رہا

جو ناموَر تھا، اور بھی وہ ناموَر ہوا

جو کام امتیاز مِرا تھا، وہی رہا

آفاق میں رہا ہوں کہ میں طاق پر ہوا


امتیازالحق

No comments:

Post a Comment