Sunday, 9 August 2020

دل کہتا ہے اس وحشی کے سینے میں اک خنجر ماروں

تین سالہ بچی کا ریپ

دل کہتا ہے اس وحشی کے
سینے میں اک خنجر ماروں
ناخن کھینچوں
ہاتھوں اور پیروں کی اِک اِک انگلی توڑوں
ہوس کی ماری آنکھیں نوچوں اور کتوں کے آگے ڈالوں

ہڈیاں توڑ کے سرمہ کردوں
سینہ چیروں
دل کو ٹھوکریں مار مار کے قیمہ کر دوں
میرے بس میں ہوتا تو مَیں
اس وحشی کے سارے جِسم پہ
بال بال کی جڑ میں سوئیاں گاڑ کے زندہ دفن کراتی
لیکن ایسے حیوانوں کو
عدم ثبوت کا فائدہ دے کر
اکثر چھوڑ دیا جاتا ہے

حمیدہ شاہین

No comments:

Post a Comment