تین سالہ بچی کا ریپ
دل کہتا ہے اس وحشی کے
سینے میں اک خنجر ماروں
ناخن کھینچوں
ہاتھوں اور پیروں کی اِک اِک انگلی توڑوں
ہوس کی ماری آنکھیں نوچوں اور کتوں کے آگے ڈالوں
ہڈیاں توڑ کے سرمہ کردوں
سینہ چیروں
دل کو ٹھوکریں مار مار کے قیمہ کر دوں
میرے بس میں ہوتا تو مَیں
اس وحشی کے سارے جِسم پہ
بال بال کی جڑ میں سوئیاں گاڑ کے زندہ دفن کراتی
لیکن ایسے حیوانوں کو
عدم ثبوت کا فائدہ دے کر
اکثر چھوڑ دیا جاتا ہے
حمیدہ شاہین
دل کہتا ہے اس وحشی کے
سینے میں اک خنجر ماروں
ناخن کھینچوں
ہاتھوں اور پیروں کی اِک اِک انگلی توڑوں
ہوس کی ماری آنکھیں نوچوں اور کتوں کے آگے ڈالوں
ہڈیاں توڑ کے سرمہ کردوں
سینہ چیروں
دل کو ٹھوکریں مار مار کے قیمہ کر دوں
میرے بس میں ہوتا تو مَیں
اس وحشی کے سارے جِسم پہ
بال بال کی جڑ میں سوئیاں گاڑ کے زندہ دفن کراتی
لیکن ایسے حیوانوں کو
عدم ثبوت کا فائدہ دے کر
اکثر چھوڑ دیا جاتا ہے
حمیدہ شاہین
No comments:
Post a Comment