Sunday, 9 August 2020

جاہلوں کو سلام کرنا ہے

جاہلوں کو سلام کرنا ہے
اور پھر جھوٹ موٹ ڈرنا ہے
کاش وہ راستے میں مل جائے
مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے
پوچھتی ہے صدائے بال و پر
کیا زمیں پر نہیں اترنا ہے؟
سوچنا کچھ نہیں ہمیں فی الحال
ان سے کوئی بھی بات کرنا ہے
بھوک سے ڈگمگا رہے ہیں پاؤں
اور بازار سے گزرنا ہے

فہمی بدایونی

No comments:

Post a Comment