جاہلوں کو سلام کرنا ہے
اور پھر جھوٹ موٹ ڈرنا ہے
کاش وہ راستے میں مل جائے
مجھ کو منہ پھیر کر گزرنا ہے
پوچھتی ہے صدائے بال و پر
سوچنا کچھ نہیں ہمیں فی الحال
ان سے کوئی بھی بات کرنا ہے
بھوک سے ڈگمگا رہے ہیں پاؤں
اور بازار سے گزرنا ہے
فہمی بدایونی
No comments:
Post a Comment