دشتِ ظلمت میں دل ہی نہیں گم ہوئے
پہلے ٹوٹے گماں، پھر یقیں گم ہوئے
تھام کر ہاتھ میلے میں لائے تھے جو
وہ کہیں رہ گئے، ہم کہیں گم ہوئے؟
کس سے ملتی ہمیں اس گلی کی خبر؟
کچھ گئے ہی نہیں، کچھ وہیں گم ہوئے
رشکِ مہتاب تھے جو دِیے، بجھ گئے
جن سے تھی کہکشاں یہ زمیں، گم ہوئے
اپنے کھوئے ہوؤں کی نشانی ہوں میں
اک شکستہ مکاں ہوں، مکیں گم ہوئے
حمیدہ شاہین
No comments:
Post a Comment