سر جھکائے ہوئے، ہاتھ جوڑے ہوئے
ہم کھڑے ہیں تِرے عہد توڑے ہوئے
مِرے رستے سے اٹھ جا سگِ رنگ و بُو
میں بدن کی مہاریں ہوں موڑے ہوئے
زندگی اپنی قاشیں سجا لائی ہے
اشک چھڑکے ہوئے غم نچوڑے ہوئے
میرے سارے پرندے تو پنجروں میں ہیں
خوف ہیں بس فضاؤں میں چھوڑے ہوئے
حمیدہ شاہین
No comments:
Post a Comment