Thursday, 8 October 2020

لمحہ لمحہ زوال ہو گا

 لمحہ لمحہ زوال ہو گا

درد سہنا محال ہو گا 

لوٹ آتے ہیں جانے والے 

خام تیرا خیال ہو گا

اب کے ٹوٹا ہے مان ایسے

پھر نہ جیسے محال ہو گا

اب بھی بدلے ہیں صرف ہندسے

پہلے جیسا ہی سال ہو گا

حالِ دل مت کسی سے کہنا

بعد میں پھر ملال ہو گا


عتیق الرحمٰن صفی

No comments:

Post a Comment