وہ دور ہو رہا ہے
مغرور ہو رہا ہے
وہ دل کا راز لکھ کر
رنجور ہو رہا ہے
تیرے بغیر دیپک
بے نور ہو رہا ہے
بن تیرے فن ہمارا
معذور ہو رہا ہے
کوئی ہمیں ستا کر
مسرور ہو رہا ہے
زخمِ جگر ہمارا
ناسور ہو رہا ہے
اک بت ہمارے دل پر
مامور ہو رہا ہے
بے نام تھا صفی جو
مشہور ہو رہا ہے
عتیق الرحمٰن صفی
No comments:
Post a Comment