Thursday, 8 October 2020

خواب میں‌ اب اشارے ملتے ہیں‌

 خواب میں‌ اب اشارے ملتے ہیں‌ 

میرے تم سے ستارے ملتے ہیں‌

تم کو پانے کی آرزو کب ہے 

ہم تو بن کے تمہارے ملتے ہیں

یار وہ جو شریکِ غم بھی ہو 

ہنستے ہنستے تو سارے ملتے ہیں 

دینا پڑتا ہے دل منافع میں 

مفت میں کب خسارے ملتے ہیں

عکس ٹپکا ہے تیرا آنکھوں سے 

نقش سارے کے سارے مِلتے ہیں 

آ، سمندر پہ اکتفا کر لیں

کب پلٹ کے کنارے ملتے ہیں 


عاطف جاوید عاطف

No comments:

Post a Comment