ہو گئی برباد کتنی شاد کتنی رہ گئی
دیکھنا ہے زندگی آباد کتنی رہ گئی
اور باقی رہ گئی اب سانس کی کتنی رسد
کاسۂ دل! یہ بتا، امداد کتنی رہ گئی
چار دن کا عہد تھا سو کب تلک ہو گا وفا
ٹھیک سے گِن کر بتا، معیاد کتنی رہ گئی
بن سنور کے دیکھ تو لیں آئینۂ زندگی
اس نِگاہِ شوق میں اب داد کتنی رہ گئی
آو گِن کے دیکھتے ہیں دوستوں کی بھیڑ میں
چاہنے والوں کی اب "تعداد" کتنی رہ گئی
عاطف جاوید عاطف
No comments:
Post a Comment