اک شوق آرزو ہے جو پورا نہیں ہوتا
اک یار کا وعدہ ہے جو سچا نہیں ہوتا
کہتا ہے کون غم نہیں رکھتا کوئی وجود
کہتا ہے کون درد کا چہرہ نہیں ہوتا
مجھ سے مِرے جنون پہ سب لوگ خفا ہیں
ورنہ تمام شہر میں کیا کیا نہیں ہوتا
ہو ربط میں تاثیر فرشتوں کی بھی لیکن
ہر تازہ تعلق پہ بھروسہ نہیں ہوتا
کیا حسن تکلف ہے کہ بندے، خدا کے بیچ
پردے کے باوجود بھی پردہ نہیں ہوتا
سولی پہ چڑھانا مجھے آرام سے قاتل
عجلت میں کوئی کام بھی سیدھا نہیں ہوتا
پڑتا ہے میل وقت کا ہر چیز پہ لیکن
اک صبر کا دامن ہے جو میلا نہیں ہوتا
شاید یہ بھی ہماری نظر کا قصور ہے
جو جیسا نظر آتا ہے ویسا نہیں ہوتا
کیوں آئی زرہ پہن کے تتلی چمن میں آج
ہر پھول کے پہلو میں تو کانٹا نہیں ہوتا
جس خاک کی فطرت میں ہو انسان سے نفرت
اس خاک پہ عابد کوئی سجدہ نہیں ہوتا
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment