Thursday, 8 October 2020

تاوان اس نے اپنا آپ گروی رکھا تھا

 تاوان


میں نے اپنی آنکھیں

اپنے ہاتھ اور اپنی سوچیں

جس دن سے اس کے پاس

گروی رکھی ہیں

اس دن سے وہ لا پتہ ہے

اب میں اپنی مرضی سے نہ دیکھ سکتی ہوں

نہ سوچ سکتی ہوں ، نہ لکھ سکتی ہوں

اور اب سنا ہے

اس نے انہیں تاوان میں دے دیا ہے

اس شخص کو

جس کے پاس

اس نے

اپنا آپ گروی رکھا تھا


نجمہ منصور

No comments:

Post a Comment