Tuesday, 12 April 2022

مری آنکھوں کی ساری ان کہی پہچان لو گے

 مِری آنکھوں کی ساری ان کہی پہچان لو گے

تمہیں بیٹی عطا ہو گی تو سب جان لو گے

سنہری نظم کالی آستیں میں ٹانک دی ہے

اب اس ٹوٹے بٹن کا اور کیا تاوان لو گے

مجھے معلوم ہے تکیے کے نیچے کیا پڑا  ہے

مجھے ڈر ہے کسی دن تم مجھی پر تان لو گے

بس ایک چھیدوں بھری دانش ہے اور یہ خوشگمانی

اسی چھلنی میں تم ساری خدائی چھان لو گے

ستائش کے پھسلواں موڈ میں کچھ حرف زادے

تمہیں اپنا خدا کہہ دیں، تو کیا تم مان لو گے

ہماری راہ چل نکلے ہو، لیکن یہ نہ سمجھو

کہ اتنی ہی سہولت سے ہمیں تم آن لو گے


حمیدہ شاہین

No comments:

Post a Comment